کیا کراچی میں فائنل ہوگا؟

’’آپ کو کیا لگتا ہے کراچی میں فائنل ہوگا؟‘‘ گذشتہ دنوں یو اے ای سے واپسی پر ایئرپورٹ پر ایک صاحب نے یہ سوال پوچھا، اس سے قبل دبئی اور شارجہ میں بھی  دوست یہی پوچھتے رہتے تھے، اس وقت یہ ملین ڈالر کا سوال بن چکا، جہاں تک سیکیورٹی کا تعلق ہے یقینی طور پر ہمارے انتظامات مکمل ہیں، لاہور کے بعد اب ہماری سیکیورٹی ایجنسیز کراچی میں بھی با احسن انداز سے میچز کرانے کیلیے تیار ہیں، گذشتہ عرصے فل ڈریس ریہرسل بھی عمدگی سے ہوئی۔

غیرملکی ماہرین انتظامات سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں، البتہ کھلاڑیوں کو قائل کرنا بدستور ایک بڑا چیلنج ہے، کیون پیٹرسن سمیت بعض کھلاڑی پاکستان جانے سے صاف انکار کرچکے، دیگر ابھی کوئی بیان داغ کر متنازع نہیں بننا چاہتے، وہ ابھی اپنی ٹیموں کے فیصلہ کن مرحلے تک پہنچنے کا انتظار کر رہے ہیں، گذشتہ برس  کوئٹہ  گلیڈی ایٹرزکو لاہور میں ہونیوالے فائنل میں اپنے اسٹار کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کے سبب شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس بار ایسی صورتحال سے بچنے کیلیے ابھی سے کام کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں حالات اب بہت بہتر ہیں، پی ایس ایل ٹو کا فائنل، ورلڈ الیون سے سیریز، سری لنکا سے میچ بھی ہوچکا، اس دوران سب نے دیکھا کہ سیکیورٹی انتظامات کتنے بہترین تھے، انہی کو مثال بنا کر غیرملکی کھلاڑیوں کو قائل کرنا چاہیے، امید ہے کہ یہ معاملہ بھی کسی حد تک حل ہو جائے گا، البتہ سب سے بڑا مسئلہ نیشنل اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش کے کام کی وقت پر تکمیل ہے۔

پی سی بی کو ہر سال آئی سی سی سے اسٹیڈیمز وغیرہ کیلیے بھاری رقم ملتی ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک کے حالات چند برس قبل خاصے خراب تھے، اس پر بورڈ نے بھی سوچا کہ اب یہاں  میچز تو ہونے نہیں لہذا ڈیولپمنٹ فنڈ کا استعمال ہی نہیں کیا گیا، اس سے ہر ماہ سود کی مد میں ملنے والے کروڑوں روپے سے دیگر اخراجات پورے کیے جاتے رہے، اسی لیے نیشنل اسٹیڈیم اس حال پر پہنچا کہ صرف تزئین و آرائش کیلیے ایک ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنا پڑی۔

یہ کام ایک، دو ماہ میں مکمل ہونے والا نہیں اسی لیے دن رات ایک کردینے کے باوجود ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے، خصوصاً پی ایس ایل فائنل تک چھت بننا ناممکن نظر آتا ہے، گوکہ رات کے وقت شائقین کو اس سے مسئلہ نہیں ہوگا مگر ٹی وی پر  اچھا تاثر نہیں جائے گا، نیشنل اسٹیڈیم کا کام دو مراحل میں مکمل ہونا ہے، فیز ون میں انکلوژرز، نشستیں، باتھ روم، وی آئی پی باکسز، ڈریسنگ رومز اور لفٹس کی تکمیل شامل ہیں۔

یہ کام ہر حال میں فائنل سے قبل ہونا ہے، ڈریسنگ رومز میں گوکہ ٹائلز لگ چکے مگر پانی کی لائن ڈالنا باقی ہے، باکسز میں ابھی بجلی کی سپلائی اور رنگ و روغن کا کام ہونا ہے، کرسیاں  نئی نہیں لگائی جا رہیں، ان کی صفائی ہو گئی البتہ ٹوٹی ہوئی کرسیوں کوتبدیل کر دیا جائے گا۔  ایک اور  بڑا مسئلہ  چیئرمین باکس کو بند رکھنا ہوگا۔

نیشنل اسٹیڈیم میں صرف ایک ہی عمارت ہے، وہاں واقع چیئرمین باکس میں اہم شخصیات میچز دیکھا کرتی تھیں مگر تعمیراتی کام کی وجہ سے اسے بند کر دیا گیا ہے، اب ہاسپٹلیٹی باکسز پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا، چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی اب ذہن بناچکے کہ فائنل کراچی میں ہی کرانا ہے مگر ادھورے اسٹیڈیم میں میچ کا انعقاد اچھا تاثرنہیں چھوڑے گا، گوکہ شہرقائد کے عوام عرصے سے انٹرنیشنل کرکٹ کو ترسے ہوئے ہیں، یقیناً انھیں بھی ایک بڑے میچ کی میزبانی کا حق حاصل ہے مگر جلد بازی میں ایسا کرنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونا، البتہ اس کے باوجود اگر فائنل کراچی میں کرانے کا فیصلہ ہوگیا تو ہم سب کو اسے سپورٹ کرنا چاہیے۔

میں حال ہی میں یو اے ای میں پی ایس ایل کے چند ابتدائی میچز دیکھ کر واپس آیا ہوں، وہاں جا کر مجھے احساس ہوا کہ اگر ہم نے جلد ایونٹ کو اپنے ملک منتقل نہیں کیا تو وہ اپنی اہمیت کھونے لگے گا، دبئی والوں نے ہم سے بڑا مال کمایا مگر اب ٹی ٹین اور افغان لیگ جیسے ایونٹس بھی انھیں مل چکے، پھر وہ خود اپنی لیگ بھی کرانے والے ہیں لہذا پاکستان کو اب زیادہ اہمیت نہیں دے رہے، گوکہ نجم سیٹھی نے پی ایس ایل ملائیشیا منتقل کرنے کی دھمکی بھی دی مگر اس کا  انھوں نے خاص اثر نہیں لیا، دبئی میں رواں برس ہونے والے بیشتر مقابلوں میں اسٹیڈیم خالی ہی رہا۔

اعزازی ٹکٹ والے زیادہ ترلوگ ہی میچز دیکھنے آتے رہے جس سے دنیا پر ہماری لیگ کا اچھا تاثر نہیں گیا، اس کی وجوہات اسٹیڈیم کا شہر سے دور ہونا بھی تھی، ہر برس میں یہی کہتا ہوں کہ ایونٹ کی اچھی تشہیر کریں، اسکول و کالج کے طالبعلموں کو میچ دیکھنے کیلیے بلائیں اور جنرل انکلوژر میں داخلہ مفت کر دیں مگر  افسوس ایسا ہوتا نہیں ہے، دوسری جانب شارجہ کا اسٹیڈیم جدید سہولتوں سے آراستہ نہیں، وہاں اب بھی1986 والا مین انکلوژر اور باکسز موجود ہیں۔

رواں پی ایس ایل میں صرف ایک میچ کیلیے میں شارجہ اسٹیڈیم گیا مگر وہ تجربہ اچھا نہ رہا، میڈیا باکسز میں غیرمتعلقہ افراد کی بھرمار تھی، شائقین و دیگر افراد کے شور میں کام پر توجہ دینا دشوار تھا، جہاں میرا نام لکھا تھا اس پر کوئی اور صاحب براجمان نظر آئے، جہاں مجھے جگہ ملی وہاں لیپ ٹاپ کیلیے پاور پوائنٹ نہ تھا، کوشش کے باوجود وائی فائی سگنل نہ ملا، تین، چار صحافیوں کے سوا دیگر غیرمتعلقہ افراد شور شرابا کرتے اور سیلفیز بناتے ہی نظر آئے، کھانے کے وقت پتا چلا کہ پریس کانفرنس روم میں انتظام ہے مگر وہاں سب کچھ پہلے ہی ختم ہوچکا تھا، پھر پی سی بی آفیشل نے کسی اور جگہ اہتمام کیا۔

میری رائے کے مطابق کسی ورکنگ جرنلسٹ کیلیے شارجہ اسٹیڈیم میں بیٹھ کر میچ کی کوریج کرنا بیحد دشوار کام ہے، ماضی کے برعکس اس بار پہلے میچ میں شائقین وہاں بھی نظر نہیں آئے تھے حالانکہ یہ اسٹیڈیم شہر کے درمیان میں ہی واقع ہے، اس  سے پی سی بی کو سبق سیکھنا چاہیے۔

پی ایس ایل کی بقا مکمل ایونٹ کے پاکستان میں انعقاد سے ہی ہے، یقینی طور پر فوراً ایسا ممکن نہیں لیکن آہستہ آہستہ اقدامات کرنا ہوں گے، اسی صورت بھاری اخراجات سے بھی بچا جاسکتا ہے، حالیہ ایونٹ سے  بورڈ کیلیے خطرے کی گھنٹی بج چکی، تھنک ٹینک کو ایونٹ کے بعد کئی بڑے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔

نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں۔

تحریر: سلیم خالق

Leave a Reply