’’ویلکم ٹو دبئی‘‘

پی ایس ایل کیلیے دبئی روانگی کا اس بار آغازکچھ اچھا نہ رہا، کراچی ایئرپورٹ پر امارات ایئرلائنز کی فلائٹ ڈھائی گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوئی،اس دوران تمام مسافر جہاز میں ہی بیٹھے رہے اور ایک جوس کے گلاس سے تواضع ہوئی،اس سے قبل اکتوبر میں سیریز کیلیے دبئی روانگی کے وقت فلائٹ تاخیر کا شکار ہوتے ہوتے بالاخر منسوخ ہو گئی تھی،یوں مجھے شیڈول سے ایک دن بعد جانا پڑا تھا، جہاز میں سوار کئی افراد پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب کیلیے ہی جا رہے تھے، ان میں اداکار جاوید شیخ، فیصل قریشی اور مومل شیخ بھی شامل تھے،پھر ہوٹل میں بھی کئی اداکار دکھائی دیے، یوں کرکٹ میں شوبز کے تڑکے کا تمام انتظام نظر آیا، گذشتہ ایڈیشن کے فکسنگ اسکینڈل کے بعد اس بار منتظمین زیادہ محتاط ہیں، ہوٹل کی تبدیلی کا بھی فائدہ ہوا، لاہور قلندرز کے سوا دیگر پانچوں ٹیمیں ایک ہی جگہ قیام پذیر ہیں۔

مشہور شخصیات کی آمد کے سبب سیلفیز کے شوقین افراد تو یہاں بھی پہنچ جاتے ہیں مگر تعداد سابقہ ہوٹل کے مقابلے میں خاصی کم ہے، فلائٹ کی تاخیر سے آمد کے سبب مجھے فوراً ہی اسٹیڈیم روانہ ہونا تھا،روانگی کے بعد وہاں بھی ٹریفک جام میں پھنس گیا، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی تھیں،2 منٹ کا سفر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوا، اسٹیڈیم کے باہر شائقین کا جوش وخروش دیکھ کر خوشی کا احساس ہوا کہ پی ایس ایل کے ذریعے انھیں وطن سے دوربھی خوشیاں منانے کا موقع مل رہا ہے،ایکریڈیشن کارڈ مجھے پہلے ہی مل گیا تھا لہذا سیدھے میڈیا سینٹر چلا گیا، وہاں بعض لوگ مجھے دیکھ کر حیران رہ گئے اور کہنے لگے ’’ہم نے سنا تھا کہ آپ کو بورڈ کارڈ جاری نہیں کر رہا‘‘ میں نے جواب دیا کہ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو میں پہلے ہی دن میڈیا باکس میں کیسے آتا، بعض میڈیا کے ’’دوستوں‘‘ کو اس کا صدمہ بھی ہوا اگلے دن انھوں نے یہ افواہیں اڑا دیں کہ میں نے معافی مانگی توکارڈ جاری ہوا اس میں بھی کوئی صداقت نہیں کیونکہ میں نے ایسا کیا کام کیا جس پر معافی مانگتا، خیر بات کہاں سے کہاں نکل گئی، میں افتتاحی تقریب کا ذکر کر رہا تھا جو خاصی متاثر کن تھی، میں نے پی ایس ایل کے گذشتہ دونوں ایڈیشنز بھی کور کیے۔

اس بار کی تقریب ان دونوں پر بازی لے گئی،خصوصاً آتشبازی کا مظاہرہ اور عابدہ پروین کی پرفارمنس بہترین رہی، وہ جب واپس جا رہی تھیں تو مداحوں نے سیلفیز کیلیے انھیں گھیر لیااور وہ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کی فرمائش پوری کرتی رہیں،وہاں رمیز راجہ سمیت کئی سابق کرکٹرز سے بھی ملاقات ہوئی، پہلے میچ میں ملتان سلطانز نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے دفاعی چیمپئن پشاور زلمی کو آؤٹ کلاس کر دیا، شعیب ملک جیسے زیرک کپتان کی موجودگی میں آپ ملتان کو نظر انداز نہیں کر سکتے، رواں ایڈیشن کے دوران ملتان کی جانب سے اچھی کارکردگی کی توقع ہے، میچز کے دوران اداکارہ ماہرہ خان، فواد خان اور حمزہ علی عباسی بھی شائقین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں،پی ایس ایل میں اب تک ایک بات محسوس کی کہ گراؤنڈ میں شائقین کی بہت بڑی تعداد نظر نہیں آ رہی، دبئی اسٹیڈیم شہر سے دور ہے یہاں آنا عام آدمی کیلیے آسان نہیں، پھر پارکنگ کے بھی مسائل ہیں۔

یو اے ای میں تواتر سے ٹی ٹین اور دیگر لیگز ہوں گی تو پی ایس ایل کیلیے شائقین کے ساتھ اسپانسرز کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرانا آسان نہ ہو گا، اسی لیے اگر بورڈ متبادل وینیوز کا سوچ رہا ہے تو یہ بالکل درست بات ہے، ساتھ جب تک یہاں میچز ہو رہے ہیں کم از کم جنرل اسٹینڈ میں داخلہ مفت کر دینا چاہیے تاکہ وہی رقم لوگ کرائے پر خرچ کر کے اسٹیڈیم پہنچ سکیں، اسکول و کالجز کے بچوں کو میچ میچز دیکھنے کیلیے مدعو کرنا چاہیے، ویسے شارجہ کا اسٹیڈیم چھوٹا اور شہر کے درمیان میں ہی واقع ہے، اب کئی میچز وہاں ہونے ہیں، وہ مکمل بھرا ہوا ہی نظر آئے گا، دبئی میں ٹیم ہوٹل سے شاپنگ مال بھی منسلک ہے، وہاں ایک دن مجھے وہاب ریاض اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتے نظر آئے، انھوں نے اب مچل جانسن جیسی مونچھیں رکھ لی ہیں بس اب کارکردگی بھی ویسی ہو جائے تو کیا بات ہے، وسیم اکرم،سعید اجمل اور محمد سمیع سے بھی لابی میں ملاقات ہوئی،ڈیرن سیمی کو ایک دن میں نے دیکھا تو وہ اپنے پٹھان مداحوں میں گھرے ہوئے سیلفیز بنوا رہے تھے۔

انھیں سیمی خان کا لقب مل چکا پشاور زلمی کا کپتان ہونے کی وجہ سے ان کے پاکستانی مداحوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہو چکا، پہلا میچ ہارنے کے بعد جب سرفراز احمد سے میری بات ہوئی تو وہ کہنے لگے’’ بیٹنگ کی ناکامی کے سبب ایسا ہوا، اگلے میچ میں کم بیک کریں گے‘‘ اور پھر ایسا ہی ہوا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اپنے دوسرے میچ میں لاہور قلندرز کو آسانی سے مات دے دی، ویسے یہاں مجھے ایک بات بڑی کھٹک رہی ہے، عماد وسیم کو بڑی تیزی سے کپتان بنانے کیلیے مہم چلائی جا چکی حالانکہ وہ ایسے کھلاڑی نہیں جو تینوں طرز کی کرکٹ کھیلتے ہوں، پھر سرفراز کی کارکردگی ایک ون ڈے سیریز کے سوا بہتر ہی رہی ہے، ایسی باتیں کر کے انھیں کیوں دباؤ کا شکار کیا جا رہا ہے، ابھی ٹیم سیٹ ہو رہی ہے خدارا کھلاڑیوں کو آپس میں نہ لڑائیں۔ بیشتر کھلاڑیوں کی فیملیز بھی ساتھ ہیں، یہاں اچھا ماحول بنا ہوا ہے، شعیب ملک کی ٹینس اسٹار اہلیہ ثانیہ مرزا بھی دبئی آ چکیں، ان دونوں نے یہاں پھر سے فلیٹ خرید لیا اور اب فارغ وقت یو اے ای میں ہی گذارتے ہیں۔

ایونٹ میں شریک شاہد آفریدی ٹیم بدلنے کے بعد بھی چھائے ہوئے ہیں، وہ کراچی کنگز کو ایک میچ جتوا چکے، ان کے کیچ کا تو دنیا بھر میں خوب چرچا ہے، میں نے ان سے کہا کہ اس فٹنس کا کیا راز ہے تو کہنے لگے کہ ’’ میں دنیا میں کہیں بھی ہوں ٹریننگ نہیں چھوڑتا یہ اسی کا اثر ہے‘‘ پی ایس ایل میں جہاں دنیا بھر کے کرکٹرز یکجا ہیں وہیں سابق پاکستانی کرکٹرز کو بھی کوچنگ وغیرہ میں خود کو منوانے کا اچھا موقع ملا ہے، اب تک کراچی کنگز اپنے تینوں میچز جیت چکی، ملتان سلطانز کو دو جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، اسلام آباد یونائٹیڈ اورپشاور زلمی کو ایک، ایک میچ میں فتح ملی،لاہور قلندرز میں کئی بڑے نام شامل مگر ٹیم تاحال تینوں میچز میں ناکام رہی ہے، میں نے ٹیم اونر رانا فواد کو دیکھا تو بیحد دلبرداشتہ نظر آئے، ایونٹ میںکرکٹ کا معیار کسی صورت انٹرنیشنل مقابلوں سے کم نہیں،جس دن یہ پوری لیگ پاکستان آ گئی پھر دیکھیں ہماری کرکٹ کو کتنا فائدہ ہوتا ہے، ابھی ابھی ایک کھلاڑی کا میسیج آیا ہے میں نے ان سے انٹرویو کی درخواست کی تھی، ان کے پاس جانا ہے،باقی باتیں انشاﷲ اگلے کالم میں بتاتا ہوں۔

Leave a Reply