شائقین کی بڑی تعداد ٹکٹ حاصل کرنے سے محروم

 کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں پی ایس فائنل کے لیے ٹکٹوں کا اجرا پندرہ مارچ سے کیا گیا، جس کے مطابق پہلے آئی پہلے پائیے کی بنیاد پر ٹکٹ فروخت کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

جنرل انکلوژر کے ٹکٹ کی قیمت ایک ہزار روپے، آصف اقبال، ماجد خان اور وقار حسن انکلوژر کے لیے ٹکٹ کی قیمت چار ہزار جب کہ قائد انکلوژر، عمران خان اور وسیم اکرم انکلوژر کے لیے ٹکٹ کی قیمت آٹھ ہزار رکھی گئی، جب کہ حنیف محمد، جاوید میاں داد اور فضل محمود انکلوژر کی قیمت بارہ ہزار روپے رکھی گئی تھی۔

ٹکٹ فروخت کرنے والی کمپنی کے اعلیٰ حکام کے مطابق کا اس بابت کہنا ہے کہ فائنل میچ کے ٹکٹ کی آن لائن فروخت کا آغاز بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بارہ بجے ہوا تھا، لیکن فروخت شروع ہوتے ہی ویب سائٹ پر ٹریفک کا دبائو بڑھ گیا اور ویب سائٹ کریش ہوگئی، جب کہ جمعرات کی صبح نو بجے ٹکٹ کی فروخت کے لیے مختص ’ٹی سی ایس‘ کی 32 شاخوں پر کراچی کے شائقین کرکٹ اجراء والے دن صبح صبح ہی مقررکردہ آئوٹ لیٹ پر ٹکٹ خریدنے کے لیے قطار بند ہوگئے تھے، جن میں خواتین کی بھی بری تعداد شامل تھی۔ تاہم فروخت شروع ہونے کے کچھ گھنٹے بعد ہی متعلقہ کوریئر سروس نے ایک تمام انکلوژر کے ٹکٹ فروخت ہونے کا اعلان کردیا۔

اس کے باوجود ہزاروں شہری ٹکٹ خریدنے میں ناکام رہے، جب کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مفاد پرست عناصر نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ شروع کردی۔

ٹکٹ کے حصول میں کام یاب ہونے والی شائقین اپنی محنت وصول ہونے پر وکٹری کا نشان بناتے دکھائی دیے تو دوسری جانب بغیر ٹکٹ کے مایوس لوٹنے والے افراد ٹکٹ بلیک ہونے کا الزام لگایا تو کچھ نے ٹکٹ نہ ملنے پر انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کرکے دل کی بھڑاس نکالی، جب کہ ٹکٹوں کی فروخت کی گہماگہمی کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نیشنل اسٹیڈیم کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’یہ ہمارا ایونٹ ہے جسے ہم کام یاب بنائیں گے اور پی ایس ایل فائنل کے لیے فول پروف سیکیوریٹی انتظامات کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔‘‘ اس موقع پر انہوں نے پی ایس ایل میں شریک تمام ٹیموں خصوصاً کراچی کنگز کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔

Leave a Reply